GW TV

Gujranwala Based News

بلاگ

14فروری کو غیر مسلم قومیں ویلنٹا ئن ڈے اور پا کستان کی مختلف طلبہ تنظیمیں و مذ ہبی جماعتیں یوم حیا ء منا تی ہیں پاکستان میں اس روایت کو شروع کرنے کا سہرا اسلامی جمعیت طلبہ کے سر ہے،

14فروری کو غیر مسلم قومیں ویلنٹا ئن ڈے اور پا کستان کی مختلف طلبہ تنظیمیں

تحریر: حافظ عبدالرحمٰن منہاس
عنوان:14فروری ویلنٹا ئن ڈے نہیں۔۔۔۔یوم حیاء۔۔یوم حیاء۔۔یوم حیاء
14فروری کو غیر مسلم قومیں ویلنٹا ئن ڈے اور پا کستان کی مختلف طلبہ تنظیمیں و مذ ہبی جماعتیں یوم حیا ء منا تی ہیں پاکستان میں اس روایت کو شروع کرنے کا سہرا اسلامی جمعیت طلبہ کے سر ہے،پاکستان میں پہلی مرتبہ ”یوم حیا“ منانے کا فیصلہ ؎؎9فروری 2009کو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں کیا گیا۔ ویلنٹائن کے مقابے میں اس روز و ”یوم حیا“ کا نام اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پنجاب کے ناظم قیصر شریف نے دیا،انہوں نے 9 فروری کو اعلان کیا کہ پنجاب یونیورسٹی میں 14فروری 2009 کو ویلنٹائن کی بجائے ”یوم حیا“ منایا جائے گا۔ اگلے سال جب قیصر شریف اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب کے ناظم بنے تو انہوں نے ”یوم حیا“ کو 14 فروری 2010 کے روز پورے صوبے میں جوش وخروش سے منانے کا فیصلہ کیا اور پھر 2011ئمیں پورے پاکستان میں ٰ”یوم حیا“ منایا گیا۔ اسی طرح کہا جا سکتا ہے کہ ”یوم حیا“ کے بانی قیصر شریف ہیں جو اس وقت جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما ء ہیں اور انشائاللہ پاک ویلفیئر سوسائٹی کے مرکزی آرگنائزر حافظ عبدالرحمٰن منہاس و جملہ اراکین نے بھی سابقہ روایات کے مطابق اس دفعہ بھی بھر پور طریقے سے یوم حیامنانے کا اراداہ ظاہر کیا ہے جو کہ بہت ہی خوش آئند بات ہے آ ج سے 1400 سال قبل رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے عطا کر دہ علم کی روشنی میں جو پیشنگو ئیا ں کی تھی گزرتے وقت کے سا تھ وہ پوری ہو تی نظر آ رہی ہیں آ نے والے فتنوں سے منسوب کئی احا دیث سے ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ میری امت کے گروہ اللہ کے دشمنوں کی پیروی کر تے ہوئے انکے مذہبی تہواروں اور رسم و رواج کو اپنا لیں گے۔جیسا کہ حدیث رسول ﷺ ہے:من تشبہ بقوم فھو منھم:جو شخص جس کی بھی مشابہت اختیار کرے گا اس کا معاملہ اسی کے ساتھ ہو گا،اگر آج ہم مشابہت صحابہ رضی اللہ عنہم کی کریں گے تو ہم انہی کے طریقے پر ہوں گے،اگر کسی اور کی مشابہت کریں گے یہودو نصٰاری کی تو ہم انہیں کے طریقے پر ہوں گے،اللہ تعالٰی ہمیں صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین،اور سلف صالحین کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
آج ہم تا ریخ اُٹھا کر دیکھیں تو ہمیں کئی ایسے فتنہ نظر آئے گے جس کی بنی کریم ﷺ نے نشا ندہی اپنی احا دیث مبارکہ میں کر دی ان میں ایک بے ہو دہ تہوار و یلنٹا ئن ڈے ہے جس نے مسلما ن نسل کو بڑی چا لا کی سے اپنے جا ل میں پھنسا یا ہو ا ہیں مگر آج ایک سا ز ش کے تحت اس کو نہ صرف اجا گر کر کے بلکہ مسلمان نو جوان مرد و خوا تین اس کا شکار بنے آج پا کستان کے ہرنو جوان کی رگوں میں کفار کا ایجاد کر دہ تہوار کو منا نے کا جنو نی زہر سرا ئیت کر چکا ہیں کفار کے تہواروں کی بنیاد شرک و بد عت سے ہو تی ہیں یوں ہی مسلمانوں کو غیر مذہب کے رسم و رواج اپنا نے سے منع کیا گیا ہے لیکن کفار نے ایک منصوبے کے تحت و یلنٹائن ڈبے کو محبت کا دن قرار دے کر نو جوان نسل کو یہ پیغام دیا ہے کہ اس دن خوب محبت با نٹو جو دل چا ہے کرو لیکن اس دن کے علا وہ چا ہے آپس میں لڑ تے رہو ظلم کی تما م حد یں عبور کر تے رہو جبکہ پیارا دینی اسلام ہم سب کو بھائی چارہ کا سبق دیتا ہیں ہر قوم کی ثقا فت و تہذیب ہو تی ہیں یوں ہی مسلمان کی اپنی ایک ثقا فت ہیں ایک تہذیب ہیں لییکن آج کا مسلمان اپنی ثقافت تہذیب کو بھو ل کر دشمن کی ثقافت و تہذیب کو فو قیت دے رہا ہیں۔ مگر افسوس کی با ت یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے بہت سے کلمہ پڑ ھنے والے دائرہ دین میں رہ کر بھی دشمن کی آزاد یوں اور ما حو ل کے بیگاڑکی وجہ سے بے عملی کا شکار ہو جا تے ہے تہواروں کے معا ملے میں خوشی منا نے اور اس کے اظہار کے طریقوں کو اپنا کر گنا ہ کا ارتکا ب کر بیٹھے ہیں لمحہ فکر یہ ہے کہ آ ج کا نو جوان غیر مسلم ثقا فت سے اتنا متا ثر ہو چکا ہیں کہ ان کی ہر چیز اچھی لگتی ہیں غیر مسلم مما لک کی اسٹیمپ دیکھ کر اشیا ء خرید تے ہیں انہیں کے ہو ٹلوں میں کھانا پسند کر تے انہیں جیسے لبا س پہنتے ہیں غیر مسلم کلچر کی ہر وہ چیز جو جا ئز ہو یا نا جا ئز حلا ل ہو یا حرام کو اپنے کلچر کا حصہ بنا نے کی کو شش میں لگے رہتے ہیں اگر کسی حد تک کا میا ب ہو جا ئے تو خو شی سے پھو لے نہیں سما تے اور یوں ہی انہیں ان کا کم عقل ذہن دین اسلام کی نا فر ما نی کے راستے کی طر ف کھینچتا چلا جا تا ہیں اسی بنا پر اسلام دشمن قوتیں کفر و شرک میں مبتلا قومیں وقتا فو قتا یہ تجر بہ کر تی رہتی ہیں کہ کتنے مسلمان مذہب کے لحا ظ سے پابند اور کتنے ہماری آواز پر لبیک کہنے کے لئے بے چین بیٹھے ہیں۔الغر ض رب ذوالجلا ل اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ جس کا سب مسلمان کلمہ پڑ ھتے ہیں ان کے فرمین میں دینی زندگی گزرانے کا طریقہ اور حدیں بیان کر دی گئی ہیں مسلمان اپنے احکام شریعت اور اسلامی قونین کا مکمل طور پر پا بند ہو تا ہے۔اسلام میں کفا ر کی ثقا فت و تہذیب سے مشا بہت کر نے سے سختی سے رو کا گیا ہیں۔ غیر محرم مرد و عورت کے با ہمی آزادانہ ملا پ کی سختی سے مما نعت کی گئی ہیں۔ کیو نکہ یہ فتنہ کو پیدا کر نے والا عمل ہے لہذا ایک مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان بنیا دی فرق یہی ہے کہ مسلمان اپنی احکام و شریعت اور اسلامی قوانین کی مکمل طور پر پا بندی کر تا ہے اور غیر مسلم ان دونوں با توں سے محروم ما درپدر آازا رہتا ہیں شیطان کے جا ل میں جکڑ ے یہ نو جوان لڑ کے لڑ کیاں اس تہوار کو منا تے ہو ئے اسلا می عقا ئد اور اپنی شنا خت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں اور یہ بھول جا تے ہیے کہ وہ بحیثیت مسلمان رسو ل کریم ﷺ کے امتی ہیں اور ایسے بے ہو دہ تہوار منا نا دین اسلام کے نزدیک قطعا جا ئز نہیں ویلنٹا ئن ڈ ے ہر سا ل ما ہ فروری کی 14 تاریخ کو محبت کے دن سے منسو ب کر کے منا یا جا تا ہیں اس تہوار کے متعلق کئی روایا ت ہیں ان تو اریخ سے تو یہ با ت تو با ا لکل ظا ہر ہے کہ اس تہوار کا تعلق عیسا ئیت سے ہے
سینٹ ویلنٹائن ایک عیسائی راہب تھا اس سے بھی ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے کچھ باتیں جڑی ہے بک آف نالج لکھتی ہے کہ ویلنتائن ڈے کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ اس کا آغا ز ایک رومی تہوار لو پر کا لیا کی صورت میں ہوا رومی مرد اس تہوار کے مو قع پر اپنی دوستوں کے نام اپنی قمیضوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے بس اوقا ت اس تہوار پر تحا ئف کا تبا دلہ بھی کیا جا نے لگا بعد میں جب اس تہوار کوسینٹ ویلنٹا ئن کے نام سے منا یا جا نے لگا تو اس کی بعض روایا ت کو بر قرار رکھا گیا اسے ہر اس فرد کیلئے اہم سمجھا جانے لگا جو کسی رفیق حیا ت کی تلا ش میں تھا۔ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹا ئن نا م کا ایک پا دری تھا جو ایک را ہبہ کی محبت کے جال میں جکڑاہوا تھا چونکہ عیسا ئیوں کے قوانین کے مطا بق راہبوں اور را ہبات کا ملا پ ممنوع تھا اس لئے ایک دن پادری و یلنٹا ئن نے اپنی معشو قہ کی تشقی کیلئے را ہبہ کو مخا طب ہو کر بتا یا کہ اسے خواب میں بئا یا گیا ہے کہ 14 فروری ایک ایسا دن ہے جس میں راہب یا را ہبہ آ پس میں ملا پ بھی کر لیں تو یہ گنا ہ نہیں سمجھا جا ئے گا راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں تمام حدیں پا ر کر تے چل گز ر ے کلیسا کی روایات کی دھجیاں اُڑا نے پر ان کے سا تھ وہی حشر ہو ا جو عمو ما ہوا کر تا تھا یعنی انہیں قتل کر دیا گیا بعد میں کچھ منچلوں نے ویلن ٹا ئن کے اس قتل کو محبت کے در جے پر فا ئز کر تے ہو ئے ان کی یا د میں یہ دن منا نا شروع کر دیا۔قدیم رومی اپنے مشرکانہ عقا ئد کے اعتبار سے خدائی محبت کی محفلیں جما تے تھے اس کا آغا ز تقریبا 1700 سال قبل رومیوں کے دور میں ہو ا جب کہ اس وقت رومیوں میں بت پر ستی عام تھی اور رومیوں نے پو پ ویلنٹا ئن کو بت پر ستی چھو ڑ کر عیسا ئیت اختیا ر کر نے کے جرم میں سزائے مو ت دی تھی لیکن جب خود رومیوں نے عیسا ئیت کو قبول کیا تو انہوں نے پو پ ویلنٹا ئن ڈے کی مو ت کے دن کو یوم شہید محبت کہہ کر اپنی عید بنا ڈا لی تیسری روایت کے تحت 14 فروری کا دن رومی دیوی یو نو (جوکہ یو نا نی دیوی دیو تا ؤں کی ملکہ اور عورتوں کی و شا دی بیا ہ کی دیوی ہے) کا مقدس دن ما نا جا تا ہے۔یہ دن ایک طرف عیسا ئیوں کی عید تو ہے مگر دوسری طرف عوام کے لئے عشق و محبت کے نام پے فحا شی و عر نیت کو فروغ دے رہے ہیں آج ہماری بد قسمتی اور غلط تر بیت کی وجہ سے یہ تہوار کم و پیش ہر مسلم ملک میں اپنے پنجے گا ڑھ چکا ہیں اور مسلم امت کی نو جوان نسل نے کھلے دل سے نہ صرف اسے قبول کیا بلکہ وہ یہود و نصاریٰ سے زیا دہ گر مجو شی کے سا تھ اسے منا نے کا اہتما م کر تے ہیں۔ اسلام نے ہمیں ہر اس کام سے رو کا ہے جس میں کفار سے مشا بہت پیدا ہو تی ہو جیسا کہ نبیﷺ کا فر مان ہے جو شخص جس قوم کی مشا بہت اختیا ر کر لے وہ انہی میں سے ہیں (ابو داؤد) اللہ تعا لی قرآن مجید کی سور ۃ اسرا ء کی آیت نمبر 32 میں فر ما تے ہیں۔
ترجمہ:۔ خبر دار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیو نکہ وہ بے حیا ئی اور بہت ہی بری راہ ہے اس آیت میں زنا کے قریب نہ جا ؤ کا مطلب زنا کے اسبا ب سے بچو یہاں یہ بھی جا ن لے ویلنٹا ئن ڈے کا مطلب اجنبی مر د و عورت کا آزادانہ ملا پ تسلیم کر نا ہے قرآن مجید کے مطا بق شیطان ہمیں فحا شی کا حکم دیتا ہے (البقرہ) یہی فحا شی شیطان کا نقش قدم ہے یہ حقیقت ہے کہ ویلنٹا ئن ڈے جیسی بیہو دگی کو پا کستان میں متعارف کر انے ولا ہمارا یہی میڈ یا ہے ویسے تو آ ج بھی پا کستان کے 99 فیصد مسلمان ایسی بے شر می اور بے غیر تی کو بر داشت کر نے کے لئے تیار نہیں لیکن ہمارا میڈ یا اس دن کو ایسے منا تا ہیں جیسے اس کا اپنا رواج ہو بے غیر تی اور فحا شی کو اچھا ئی کا نام دینا اور مسلم نو جوانوں کو اس کا درس دینا میڈ یا کے لئے کتنا آسان کام ہے ویلنٹا ئن کو محبت با نٹنے کا نام دے کرپر وان چڑ ھا تا ہے جبکہ ایسا کر نے میں کو ئی قبا حت نظر آتی ہے نہ انہیں یہ غیر اسلامی اور بیہودہ لگتا ہے وجہ صرف اور صرف عوام کی تو جہ حا صل کر کے پیسے کما نا ہے چا ہے وہ عزت سے ملے یا عزت بیچ کر ملے اتنی دھوم سے تو کبھی عید بھی نہیں منا ئی جتنی محنت اس دن کو منا نے کے لئے کی جا تی ہیں مسلم معا شر ے میں غیر اسلامی تہوار کی مقبو لیت کی ذمہ داری جہاں تک میڈ یا پر عا ئد ہو تی ہے وہاں سٹیٹلا ئٹ چینل، انٹر نیٹ اور ان کے والدین بھی بر ابر کے ذمہ دار ہو تے ہیں اگر والدین اپنی اولا د کی صحیح تر بیت کر لے اور انہیں دشمن کے حملوں سے آگا ہ کر تے رہیں اور ان میں دین کا صحیح شعور پیدا کریں تو پھر یہ ممکن ہی نہیں رے گا کہ دشمنا ن اسلام ان کے خلا ف کوئی سا زش کر سکیں پا کستان میں ویلنٹا ئن ڈے کا تصور نو ے کی دہا ئی کے آخر میں ریڈ یو اور ٹی وی کی خصوصی نشریا ت کی وجہ سے مقبول ہو ا جبکہ مو جودہ حالات میں تو ہر مسلم نو جوان اس شکنجے میں جکڑا جا چکاہے۔ہر چھو ٹے بڑے شہر میں پھو ل کارڈ اور دیگر چیزوں کے خصو صی سٹا ل لگا ئے جا تے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے ان پر کوئی پا بندی نہیں لگا ئی گئی صو بائی حکو متوں اور خصو صا بڑے شہروں کی انتظا میہ کو چا ہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کر تے ہوئے اس بیہودہ تہوار کا خاتمہ کر ے اور خصوصا پاکستان کے میڈیا سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس بیہودہ تہوار کے خاتمے کے لئے اپنا بھر پورکردار ادا کریں۔آخر میں تمام مسلمان بھا ئی بہنوں سے قرآن کی ایک آیت کی روشنی میں اس بیہودہ فعل سے کنارہ کشی اختیار کر نے کی درخواست کر تا ہوں اورجو لوگ ایسی بیہودہ حرکات کے فروغ کے لئے کوشاں ہے ان کو اللہ تعالی کی سخت وعید بھی بتلا دیتا ہوں۔اللہ تعاس لیٰ کا فر مان ہے تر جمہ:۔ یقیناًجو لو گ چا ہتے ہیں کہ ایمان والوں کے گر وہ میں فحش و بے حیا ئی پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں سخت عذاب کے مستحق ہے (النور 19)۔

LEAVE A RESPONSE

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

×