GW TV

Gujranwala Based News

بلاگ

23مارچ1987اور علامہ احسان الہٰی ظہیررحمہ اللہ کی شہادت

23مارچ1987اور علامہ احسان الہٰی ظہیررحمہ اللہ کی شہادت
تحریر و اقتباس:حافظ عبدالرحمٰن منہاس
23مارچ1987پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن تھا جس دن مینار پاکستان کے پہلو میں قلعہ لچھمن سنگھ میں ایک دینی اجتماع میں طاقتور بم پھٹا اور عالم اسلام کے بے مثال خطیب علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمٰن یزدانی اپنے دس بے گناہ ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے تھے علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ پاکستان کی ایک بے مثال نمایاں دینی وسیاسی شخصیت تھے سیاسی ودینی حلقوں میں انہیں بیک وقت پذیرائی حاصل تھی ۔ تمام مکاتب فکر کے اکابرکے ساتھ ان کی بے تکلف دوستی تھی۔ علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کی خطابت نہ صرف برصغیرکی تاریخ میں بے مثال تھی بلکہ وہ عربی زبان میں بھی اسی روانگی اورسلاست کے ساتھ خطابت کرتے تھے کہ اہل زبان کو بھی رشک آتاتھا ۔مدینہ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران انہیں مسجدنبوی میں درس کا حلقہ ملا تو عربی زبان کے بڑے بڑے خطیبوں نے مانا کہ اس طرح کی طلاقت لسانی اور قدرت بیانی تو اہل زبان کو بھی حاصل نہیں ہے۔ سابق عراقی صدر صدام حسین کی موجودگی میں علامہ احسان الٰہی نے جو بے مثال تقریر کی تھی اس نے صدام حسین جیسے سخت گیر انسان پر بھی رقت طاری کردی تھی ۔ 1978میں کراچی میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں علامہ صاحب نے عربی میں فی البدیہہ ایسی موثر تقریر کی کہ تمام عرب وزراء بھی انگشت بدنداں رہ گئے ۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم بھی اس میں موجود تھے انہوں نے علامہ صاحب کا ماتھا چوما اور کہا کہ پاکستان کیلئے یہی فخر کیا کم ہے کہ ہم میں علامہ احسان الٰہی جیسا سپوت موجود ہے ۔ بعد میں جنرل ضیاء الحق نے آپ کو حکومت میں شامل کرنے کی کئی دفعہ کوشش کی لیکن یہ شاہین کسی طرح زیردام نہ آیا ۔آغا شورش کاشمیری جو خود بھی بلند پایہ خطیب وادیب تھے ان کے بقول خطابت کی تمام خوبیاں(وجاہت ، شجاعت ، طلاقت لسانی ، قادر الکلامی ، مدلل گفتگو ، اور بلند آہنگی ) صرف علامہ احسان الٰہی ظہیرکے اندر موجود ہیںاور آغا صاحب کی نیازمندی اس وقت سے تھی جب علامہ صاحب نے مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعداقبال پارک میں پہلا عیدکاخطبہ دیا اور حکومت کی متشددانہ کاروائیوں کی دھجیاں بکھیردی تھیں ۔بقول کسے سیالکوٹ کی مردم خیزسرزمین نے بڑے بڑے لوگ پیدا کیے لیکن علامہ کالقب دو ہی شخصیتوں پر جچتا ہے۔ ایک علامہ محمد قبال اور دوسرے علامہ احسان الٰہی ظہیر۔ علامہ صاحب کے والد حاجی ظہور الٰہی ایک کامل ولی انسان تھے ،نہایت پاکباز اور متبع شریعت ۔ جنہوں نے اپنے اس بیٹے کو بڑے لاڈ پیار سے بڑا کیا ان کے بچپن کے تمام ناز اٹھاکر انہیں ایک اعلیٰ منصب پر پہنچنے کیلئے ماحول فراہم کیا ۔ علامہ صاحب میں بچپن ہی سے کچھ کرگزرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ انہوںنے جامعہ سلفیہ فیصل آباد ، جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور پھر مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب سے علوم اسلامیہ میں کامل دسترس حاصل کی اسی دوران میں ان کی شادی شیخ الحدیث حضرت العلام حافظ محمدمحدث گوندلوی کی صاحبزادی سے ہوگئی جو خود بھی عالمہ فاضلہ اور قرآن کریم کی حافظہ تھیں۔ مدینہ یونیورسٹی تعلیم کے دوران علامہ صاحب نے فرق وادیان کے مشکل سبجیکٹ کو اختیار کرکے اس میں مکمل رسوخ حاصل کیااور پھر انہوں نے شہرہ آفاق کتابیں لکھ کر فرق باطلہ قادیانیت رفض و تشیع کے تاروپود بکھیرے ۔مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے اسی زمانے میں علامہ صاحب نے لاہورمیں قیام اختیار کیا اور تاریخی مسجد چینیانوالی میں خطابت کے منصب پرفائز ہوئے ۔اس مسجد کا تعلق شاہ اسماعیل شہید کی تحریک مجاہدین کے ساتھ تھا اس لیے یہاں بڑے بڑے جغادری خطیب فریضہ خطابت سرانجام دیتے رہے ۔مثلاًمولانا سیدداود غزنوی کہ برصغیرکی تاریخ میں ایک بلندپایہ نام ہے چونکہ یہ مسجد رنگ محل کی ایک چھوٹی سی گلی کوچہ چابک سواراں میں ہے۔ اس لیے نمازعید اقبال پارک کے وسیع وعریض گراؤنڈ میں ادا کی جاتی ہے اندرون لاہورکی بیشترآبادی یہیں نماز عید ادا کرتی تھی حتیٰ کہ مشہور ولی اللہ مفسر قرآن مولانا احمدعلی لاہوریؒ بھی ساری زندگی یہیں مولانا داود غزنویؒ کی اقتدا میں نماز عیدادا کرتے رہے۔ سیدغزنوی کی وفات 1963میں ہوئی تھی اس کے بعد سے اب تک چینیانوالی مسجد کو کوئی ایسا بلند آہنگ خطیب نہیں ملا تھااور نہ ہی سیدداود غزنوی جیسی قدآور شخصیت کے بعدکوئی ہستی اس معیار پر پورا اترتی تھی ۔علامہ احسان الٰہی کی بطور خطیب تقرری سے یہ خلا پر ہوتا نظر آیا۔یہ وہ دور ہے جب سقوط مشرقی پاکستان کازخم ابھی تازہ ہی تھا ۔اپنی تقرری کے فورا بعدعلامہ صاحب نے پہلا خطبہ عید اقبال پارک میں دیا تو اجتماع میں قافلہ آزادی کے بطل حریت، نامور ادیب و خطیب مدیر چٹان آغا شورش کاشمیریؒ بھی موجود تھے ۔انہوںنے کہا احسان الٰہی اگر آج کے بعد تم خطبہ دینا بند بھی کردو تو صف اول کے نامور خطباء کی فہرست میں تمہارا نام شامل ہی رہے گا ۔اس کے بعد تا زندگی آغا صاحب اورعلامہ صاحب کی رفاقت رہی ۔ خطابت کے ساتھ ساتھ علامہ صاحب کو مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ترجمان ہفت روزہ الاعتصام جس کے مالک و مسئول شیخ الحدیث علامہ محمد عطاء اللہ حنیفؒ تھے، اس ہفت روزہ کا مدیر بھی بنادیاگیا۔ علامہ صاحب کے انقلابی اداریوں نے حکومتی ایوانوں میں ہلچل پیدا کردی ۔ جماعت کو بھی ایک نئے آہنگ والے مدیر مل گیا ۔ آپ نے اپنا ماہنامہ ترجمان الحدیث کا ڈیکلریشن بھی منظور کرالیاجو اب تک جامعہ سلفیہ فیصل آباد کی زیرنگرانی نکل رہاہے جماعتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آپ نے سیاسی طو رپر اپنی راہ ورسم خوب بڑھالی نوبزادہ نصر اللہ خان مرحوم کے ساتھ علامہ صاحب کے نیازمندانہ تعلقات تا حیات رہے ۔ نتیجے میں آپ کو قیدوبندکی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ علامہ احسان الٰہیؒ قادیانیت کی تاریخ پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے انہوں نے بالکل نوجوانی کی عمر اور مدینہ یونیورسٹی میں دوران تعلیم سب سے پہلے رد قادیانیت کے موضوع پرمدلل کتاب لکھی تھی۔ 1974میں نشترکالج ملتان کے طلباء پر ربوہ اسٹیشن پر تشدد کی وجہ سے پورے ملک میں قادیانی مخالفت تحریک شروع ہوگئی اور1953کی تحریک کی جوچنگاری دی ہوئی تھی وہ پھر بھڑک اٹھی ۔ حکومت نے اسے روکنے اور ٹالنے کی پوری کوشش کی لیکن تحریک بہت پرزور ہوچکی تھی ۔ مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود ، مولانا ابوالاعلی مودودی ، مولانا شاہ احمد نورانی ، نوابزادہ نصر اللہ خان ، علامہ احسان الٰہی ظہیر، اور سیدمظفر علی شمسی صف اول کے قائدین تھے ۔ مجلس عمل کے قائدین کی بے پناہ دینی وسیاسی بصیرت نے تحریک کو تشددسے بچائے رکھا اس اتحاد و یکجہتی کی وجہ سے حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور 7ستمبر1974کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیرمسلم قراردینے کا تاریخی قانون پاس کردیا۔1977کی تحریک جو بھٹو دھاندلی کے خلاف چلائی گئی تھی، جسے بعد میں تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانام دیدیا گیا۔ اس تحریک میں بھی علامہ صاحب صف اول کے قائدین میں شمار ہوتے تھے اگرچہ آپ قصورکے حلقہ این اے 140سے قومی اتحاد کے امیدوارتھے لیکن ان کی خطابت کی ضرورت ہربڑے اجتماع میں ہوتی تھی ۔آپ جہاں بھی جاتے سامعین پر دیوانگی طاری کردیتے ۔چونکہ آپ کی مجاہدانہ سرگرمیوں کا عمومی ہدف برسراقتدار طبقہ ہوتا تھا اس لیے آپ پر دن رات کیس بنائے جاتے۔ تب آپ نے ائرمارشل اصغر خان کی تحریک استقلال میں سیاسی مجبوریوں کی خاطر شمولیت کرلی انہیں فوراً تحریک استقلا ل کا سیکرٹری اطلاعات بنادیا گیا مگر جب ائرمارشل اصغرخان نے قومی اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلی توآپ کو بھی تحریک استقلال چھوڑنا پڑی ۔ تحریک استقلال سے علیحدگی کے بعد آپ نے اپنی مذہبی جماعت کی شیرازہ بندی کا بیڑہ اٹھایا اورچند ہی سالوں میں جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نام سے ایک موثرتنظیم قائم کرلی ۔ اس کے ساتھ ساتھ علامہ احسان الٰہی نے تصنیف وتالیف کا کام بھی جاری رکھا فرق باطلہ کے رد میں آپ کی بیسیوں تصانیف براہ راست عربی زبان میں نہایت مدلل اور سلجھے انداز میں لکھی گئی تھیں ۔ دنیا میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں وہ تصانیف ان تک پہنچائی گئیں ۔ اس طرح مسلمانان عالم کو ان فتنہ گروں کا اصلی رخ دیکھنے کو ملا ورنہ بے شمار ایسے مسلمان تھے جو قادیانیوں کو مسلمان جماعت سمجھتے تھے، علامہ احسان الٰہی کی جماعت دراصل تبلیغ اسلام کی ایک اصلاحی تحریک تھی جسے آگے بڑھنے کیلئے ایک بڑے مرکز کی ضرورت تھی تب آپ نے لاہورکے ایک پوش اور مہنگے علاقے لارنس روڈ پرکئی کنال جگہ خرید لی جہاں فوری طور پر تبلیغی اور تنظیمی سرگرمیاں شروع کردیں نوجوانوں کو اہل حدیث یوتھ فورس کے نام سے منظم کیا ۔ اور پورے ملک میں آپ کی آواز گونجنے لگ گئی ۔ علامہ صاحب نے اسی عرصے میں پورے ملک میں بڑے بڑے اجتماعات کرنے کا پروگرام بنایا گوجرانوالہ ، قصور وغیرہ میں لاکھوں کے اجتماعات منعقد ہوئے مارچ 1987میں چینیانوالی کی تاریخی مسجد میں بیس سالہ خطابت کے بعدآپ نے مناسب جانا کہ آئندہ جمعہ کا خطبہ بھی مرکز لارنس روڈ پر دیا جائے گا چنانچہ آپ نے اعلان کیا کہ اگلا جمعہ وہیں ہوگالیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ اگلے جمعہ سے پہلے ہی جان لیوا حادثہ پیش آگیا۔
23 مارچ کا سانحہ
23 مارچ1987یوم پاکستان کے موقع پر ایک نئی تاریخ رقم ہوئی جومینار پاکستان کے پہلو میں واقع آبادی قلعہ لچھمن سنگھ میں ایک ہولناک بم دھماکاہوا اور عالم اسلام کی یہ نامور شخصیت اپنے دس ساتھیوں سمیت خاک و خون میں نہا گئی۔یہ اتنا قبیح سانحہ تھا کہ پوری دنیا میں اس کا دکھ محسوس کیا گیا ۔کوئی چھوٹا بڑا انسان ایسا نہ تھا جس نے افسوس کا اظہار نہ کیا ہو ۔ چنددن میوہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد والی حرمین شریفین کی خصوصی ہدایات پر آپ کو علاج کیلئے ریاض لیجایا گیا۔ وہاں بھی کچھ دن زیرعلاج رہے لیکن بم کا زہر پورے جسم میں پھیل چکا تھا آخر وہ وقت اجل آگیا جو ہر ذی نفس کا مقدر ہے اور آپ نے داعی اجل کی دعوت پر لبیک کہا ۔ وفات کی خبر آنافاناً ساری دنیا میں پھیل گئی۔ ریاض میں جنازہ ہوا پھر وہاں سے آپ کے جسد خاکی کو مدینہ منورہ لایا گیا جہاں حرم مدنی میں آپ کی دوبارہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور جنت البقیع کے اس حصے میں سپردخاک کردیا گیاجہاں امام مدینہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ تیرہ سو سال سے آسودہ خاک ہیں۔ علامہ صاحب کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا وہ آج تک پر نہیں ہوا کیونکہ بقول مختار مسعود اس طرح کی شخصیتیں کسی قوم کو انعام اور تحفے کو طور پردی جاتی ہیں ۔اورجب اللہ ا ناراض ہوجائے تو اپنی نعمت واپس لے لیتا ہے ۔

LEAVE A RESPONSE

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

×