GW TV

Gujranwala Based News

بلاگ

جسم بھی اللہ کا اور مرضی بھی اللہ کی

جسم بھی اللہ کا اور مرضی بھی اللہ کی
تحریر:حافظ عبدالرحمٰن منہاس
القرآن:اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے:سورۃ الاحزاب آیت نمبر 59اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں:سورۃ النور آیت نمبر 31
قارئین اکرام ہرمسلمان کو یہ پتہ ہے کہ میں اپنے رب کا بندہ ہوں میں اس کا بندہ ہوں میرے اوپر میری مرضی نہیں چلتی میرے اوپر میرے اللہ کی مرضی چلتی ہے جس کو اس بات کا علم ہو کیا وہ یہ نعرہ لگائے گا کہ میرا جسم میری مرضی،میں آوارہ،میں بدچلن،میں جو چاہوں کروں،یہ آوازیں وہ لگائیں گے جن کا اپنے اللہ پہ ایمان نہیں ہے
ایک مجرم کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا گیا کہ وہ کہہ رہا ہے کہ عورتوں کے آزادی مارچ کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے سے نکاح ختم کیا جائے جب نکاح ختم ہو گا تو باقی کیا بچے گا؟زناء رہے گا کیا وہ معاشرہ اسلامی رہے گا؟اگر تم مسلمان ہو؟ اگر تمہارا اللہ سے رشتہ ہے؟اگرتم کافر ہوگے ہو،دھریے ہو گے ہوپھر تم دنیا کے کتے ہو جو مرضی کروکھاؤ اور پیؤ یہ دنیا تمہارے لئے جنت ہے، اگر آپ کا رشتہ اسلام سے باقی ہے؟اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہو؟پھر تم اللہ کی حدود اور قیود کو توڑ کر کیا پیغام دینا چاہتے ہو؟ آپ کا یہ مارچ بالکل ایسے ہی ہے،جیسے بھیڑیوں نے جلوس نکالا،کہ بکریوں کو لوگ رات کو بند کرکے باہر سے کنڈی لگادیتے ہیں،بکریوں کے حقوق ضائع ہورہے ہیں بھیڑیوں نے جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو،اب بکریاں کہیں کہ بھیڑیے بہت اچھے ہیں کہ ہمارے حق میں جلوس نکالتے ہیں،کیا خیال ہے؟ وہ بکریاں پاغل ہی ہے نا؟بھیڑئے اس لیے آزادی چاہتے ہیں کہ بکریوں کے باڑے کا دروازہ کھلا رہے،وہ بکریوں کے رکھوالے نہیں ہیں وہ بکریوں کے خون کے پیاسے ہیں جب چاہے شکار کرلیں یہ عورت مارچ کے نام نکلنے والا جلوس عورتوں کا رکھوالا نہیں،وہ ان کی عزتوں کے ساتھ کھیلنے کے لئے گھروں میں لگی ہوئی ماں باپ کی کنڈیوں کو توڑنا چاہتے ہیں،اور بیوف قوف سمجھتی ہیں کہ ہماری آزادی کا نعرہ لگ رہا ہے،ایک مسلمان عورت اتنی قیمتی ہے،کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پوری دنیا متاع ہے،اور اس میں بہترین متاع نیک بیوی ہے،دنیا والو تمہاری دنیا سیمجھے خوشبو پسند ہے نماز پسند ہے،اور نیک بیوی پسند ہے،اسلام میں ایک مسلمان عورت کی اتنی عزت ہے کہ ایک عورت کی عزت کی خاطر مدینہ طیبہ سے یہودیوں کو نکالانہ گیا تھا؟،ان سے نہ جنگ لڑی گئی تھی؟،جو مان باپ اور بھائیوں کے سائے سے نکل کر دھول میں پہچنا چاہتی ہیں وہ مغرب کی طرف دوڑلگارہی ہیں،کہ جہاں معاشرے میں ایک عورت کی عزت ایک ٹشو سے بھڑ کر نہیں ہے،ضرورت پڑنے پر ٹشو لیا جاتا ہے اور استعمال کر کے پھینک دی اجاتا ہے،جس معاشرے کی طرف آپ دوڑ رہی ہیں وہ معاشرہ اس میں عورت ماں نہیں ہے، عورت بہن نہیں ہے،عورت بھتیجی نہیں ہے،عورت بھانجی نہیں ہے،عورت دادی نہیں ہے،عورت نانی نہیں ہے،صرف عورت کا ایک نام ہے گرل فرینڈ،جب تک اس کا جسم نوچا جا سکتا ہے نوچنے والے باقی رہتے ہیں،جب اس کا جسم نوچنے کے قابل نہیں رہتا کوئی نہیں جو اس کو بستر پہ کھانا دے بستر پہ پانی دے،اس کا صرف ایک ٹھکانہ ہو تا ہے جس کو اولڈ ہاؤس کے نام سے جانا جاتا ہے،جس معاشرے کی طرف آپ دوڑ رہی ہیں،وہاں زندگی کے سانس پورے کرنے کے لئے 95پرسنٹ عورتیں اپنا جسم بیچ کر اپنا خرچہ چلاتی ہیں،یہ بھیڑیوں کی چیخیں ہیں جن کے پیچھے لگ کر آپ بھی کہیں،دوبٹہ اتنا اچھا لگتا ہے تو اپنی آنکھوں پہ باندھ لو،جن کے پیچھے لگ کر آپ کہہ رہی ہیں کہ اپنا کھاناخود گرم کر لو،مردوں سے اتنی بیزاری کا اظہار کررہی ہیں،آپ کا باپ بھی تو ایک مرد ہے،خاوند کو ایک سائیڈ پہ رکھنے دو،آپ کا باپ ایک مرد نہیں ہے آپ کی ماں ایک عورت نہیں ہے؟جو نعرے تم لگا رہی ہو خاوند کے خلاف،کہ اسلام میں نکاح کے سسٹم کو ختم کیا جائے،خاوند کے ماجرے کو برباد کیا جائے،کیا یہی نعرے آپ کی ماں آپ کے باپ کے لیئے لگائے کیا تمہیں اچھا لگے گا؟یہ کفار چاہتے ہیں،
مسلمان ماں،مسلمان بہن،مسلمان بیٹی،مسلمان بیوی،اقسم باللہ،اسلام نے جو عزت عورت کو دی ہے دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں جس نے ایسی عزت عورت کو دی ہو،اسلام میں ماں کو جنت کا دروازہ کہا گیا،امام ابن سیرین رح اپنی ماں کے فوت ہونے پر روئے اتنا روئے کہ دیکھنے والوں نے کہا،ہمیں تو صبر کی تلقین کیا کرتے تھے،کہا ماں کے فوت ہونے پہ نہیں رورہا جنت کا دروازہ بند ہونے پہ رو رہا ہوں،ماں جنت کا دروازہ ہے،بیٹی جہنم سے آڑ ہے،بیٹی لڑکی ہے یاں نہیں عورت ہے یاں نہیں؟ماں عورت ہے یاں نہیں،بہن عورت ہے یاں نہیں،اسلام اجازت دیتا ہے کہ اگر کوئی بغیر اجازت کے آپ کے گھر جھانکے تو اس کو پھتر مار کر اس کا سر پھوڑ دو کیوں کہ بیوی آپ کی عزت ہے،کیا ابھی بھی سمجھ نہیں آئی،اگر کسی ملک کی ملکہ کو کوئی ملنا چاہے کیا ہر کوئی ملکہ کے ساتھ جاکر ہاتھ ملا سکتا ہے؟ مغرب کے ممالک کے اندر بھی کئی ملکوں کی ملکہ ہیں،کیا ہر آدمی ان سے ہاتھ ملا سکتا ہے؟وہ صرف خاص لوگوں سے ہاتھ ملاتی ہیں عام لوگوں سے نہیں،مسلمان عورت اپنے گھر کی ملکہ ہوتی ہے،ہر بندہ اس سے ہاتھ نہیں ملا سکتا،مسلمان عورت جو عزت تجھے اللہ نے دی وہ کتنی عظیم ہے،مغرب کی عورت اپنے گھر کا رینٹ دینے کے لئے،اپنا کچن چلانے کے لئے،اگر اس کو پیسے پورے نہ پڑتے ہوں وہ ڈیوٹی کرتی ہے مرد کے مساوی،نوکری کرتی ہے،اگر اس سے بھی پوری نہ پڑتی ہو تو وہ جسم فروشی کرتی ہے،مسلمان عورت توں کتنی عظیم ہے ماشاء اللہ توں گھر سے ایک قدم بھی باہر نہ رکھے،تیرا غیرت والا بھائی،تیرا غیرت والا شوہر دنیا کی ہر ضرورت تجھے گھر میں مہیا کرتا ہے،اہل اسلام بھیڑیوں کی آواز کے پیچھے کان نہ دھریئے،انکی حقیقت پہچانوں یہ دو ٹکے کی لبرل گندی عورتیں۔اسلام کے مخالف تو سرے سے ہی ہیں اب انکی دشمنی منافقت پاک سرزمین کے خلاف بھی عیاں ہو چکی ہے،گزشتہ سال ماہ مارچ میں نے پاکستان کے مشہور سینئر صحافی وسیکرٹری جنرل پی ایف یو جے رانا عظیم صاحب کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ یہ جو عورتیں عورت کے نام پر بے حیائی کررہی ہیں اور انہیں ایک مخصوص پراپیگنڈہ کرنے کے لئے مغرب سے فنڈنگ آرہی ہے
نوجوان بہن اور بھائیوں کو چاہیے کہ سوشل میڈیا کے اوپر،میرا جسم میری مرضی والی گندی عورتوں کا تعاقب کریں تانکہ ہماری آنے والی نسلیں انکے مذموم عزائم سے بچ سکیں،اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں جن لوگوں نے ان لبرل عورتوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا ہوا ہے،میں سلام پیش کرتا ہوں،پاکستان کے معروف لکھاری محترم خلیل الرحمٰن قمر جنہوں نے گزشتہ سال ماہ مارچ میں میرا جسم میری مرضی کہنے والی غلیظ عورت کا میڈیا کے اوپر بیٹھ کر منہ بند کیا اور آئندہ پورے پاکستان سے بے حیائی بے غیرتی ختم کرنے کا ارادہ کیا،ہماری دعائیں انکے ساتھ ہیں اور انشاءاللہ ہم بھی ہر محاذ پر حدوداللہ کا تحفظ کرتے رہے گے،اور اسی ضمن میں پاک ویلفیئر سوسائٹی (جو اک فلاحی تنظیم ہے) چیف آرگنائزر ہونے کے ناطے اس پیغام کو ہر خاص وعام تک پہنچا دینا چاہتا ہوں کہ ہم ہر محاذ پر حدوداللہ کی حفاظت کرتے رہیں گے اور لوگوں میں یہ شعور بیدار کریں گے کہ جسم بھی اللہ کا ہے اور مرضی بھی اللہ کی ہے جو عزت تکریم قدر عورت کو اسلام نے دی ہے کسی بھی مذہب نے نہیں دی اور مسلمان والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کو ایسی گندی محافل سےدور رکھیں جن میں اللہ رب العزت کی بغاوت کی جائے تانکہ ایک اسلامی معاشرے میں ہماری اولادیں پروان چڑھیں ۔۔

LEAVE A RESPONSE

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

×