GW TV

Gujranwala Based News

بلاگ مذہب

تحریر: کالم نگار حافظ عبدالرحمٰن تحفظِ ناموسِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !اور ہماری ذمہ داری

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
﴿ لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴾.
سورہ: آل عمران (164).
(ترجمہ:بیشک اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور ان کے باطن کو صاف کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے)
اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد جہاں تمام جہان والوں کے لئے رحمت تھی وہاں اﷲ کا بڑا احسان یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ ایسی نعمتیں بھی لائے جو میرے لئے آخرت میں کامیابیوں کا ذریعہ ہیں ۔ اور وہ چیزیں کیا تھیں جو ہمارے لئے لائے اور پھر اپنے جانے کے بعد بھی ہمارے درمیان چھوڑ گئے۔وہ کتاب و حکمت کی تعلیم تھی: اے امت مسلمہ کے نوجوانوں لوگو کبھی غور کیاوہ چیز جسے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا حکمت کہا جاتا ہے اس کے ساتھ ہمارا کیا معاملہ ہے؟ ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن محبوب کی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں جانتے کہ انہوں نے دین کے لئے کیا کیا قربانیاں دیں ۔ ہمارا رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جذباتی تعلق تو ہے یہ بھی ٹھیک ہے اور ہونا بھی چاہیے لیکن جیسے ایک قلبی تعلق ہونا چاہئے وہ نظر نہیں آتا اور ہم جو مسلمانوں کو زوال کی طرف جاتا دیکھتے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ دیا ہے۔ دوسری طرف ہم ان صحابہ کرام کو دیکھتے ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتباع کی وہی صحرا میں رہنے والے جن کے پاس علم نہ تھا وہ دنیا کے پیشوا اور امام بن گئے۔ وہ کون سا علم تھا ؟ وہ کون سا فن تھا؟جس نے مسلمانوں کو اتنے عروج تک پہنچایا۔ وہh دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا ہی نتیجہ تھا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات کے زیادہ سے زیادہ حریص رہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر کے زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کریں اس مقصد کے پیش نظر تین صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر گئے انھوں نے پردے کے پیچھے سے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے درخواست کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اندرون خانہ عبادت و عمل کے بارے میں بتائیے ان کی خواہش تھی کہ ہماری عبادت اور اس کا طریقہ ٹھیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے عین مطابق ہو جائے۔ ہم بالکل اسی طرح عمل کریں جیسے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ایمان کی نشانی یہ ہے کہ انسان اطاعت و اتباع کے ذریعے اس کا اظہار کرے ۔ اتباع کا امتحان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی ہو گیا اور اتباع یہی ہے کہ چاہے حکم آئے یا نہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور طرز عمل کو دیکھ کرو ویسا ہی طریقہ اپناتے چلے جانا۔مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پہنی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی پہن لی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتاری تو صحابہ نے بھی اتار دی۔اسی طرح جب مدینہ تشریف لے گئے تو کئ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔پھر نماز کی حالت میں حکم آیا اپنا رخ بیت اﷲ کی طرف موڑ لیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ چھوڑی اور سب سے پچھلی صف کی طرف آ کر کھڑے ہو گئے اور دوسری طرف منہ کر لیا صحابہ کرام نے نہ تو نماز توڑی اور نہ ہی کچھ کہا بلکہ اپنا رخ نماز کی حالت میں ہی بیت اﷲ کی طرف موڑ لیا ۔ اسی کو اتباع کہتے ہیں اور ہمارے لئے یہ بات چھوڑ دی گئی کہ اگر تم اﷲ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو محبت کا دعویٰ اس وقت تک سچا نہیں ہوسکتا جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کرو۔آئیے ایک نظر اُن صحابہ کرام پر بھی ڈالتے چلیں جن کے دل محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار تھے۔ مدینہ منورہ میں جب اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے، ان کا گھر دو منزلہ تھا انھوں نے نچلی منزل اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خالی کر دی اور خود بالاخانے میں تشریف ے گئے ۔ رات کو اچانک ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو خیال آیا کہ اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نیچے ہیں اور ہم ان کے سر کے اوپر چلتے ہیں کہیں یہ بے ادبی نہ ہو۔ چنانچہ یہ خیال آتے ہی وہ اور انکے اہل خانہ نے ساری رات ایک کونے میں گزار دی صبح کے وقت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ اوپر تشریف لے آئیں کیونکہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ میں اس چھت کے اوپر چڑھوں جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوں : جب اﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما لیتے تو باقی بچ جانے والے کھانے میں سے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کھانا کھایا کرتے اور پوچھتے کہ اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کس جگہ سے کھانا کھایا ہے۔ تاکہ وہ بھی برتن کی خاص اسی جگہ سے کھانا کھائیں ۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جس طرح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام کرتے تھے اس کا اظہار کئی طریقوں سے ہوتا تھا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سامنے بیٹھتے تو فرط ادب کی تصویر بن جاتے ۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح بیٹھتے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ.ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں:اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک صحبتوں کی یاد آتی ہے تو صحابہ کرام کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو جاتے ۔ ایک بار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عباسرضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں گئے تو دیکھا کہ سب لوگ رو رہے ہیں ۔سبب پوچھا تو بولے ’’ذَکرنا مَجلِس النبی مِنّا‘‘ ہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی یاد آ گئی تھی۔(بخاری)سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑ سکتا جس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عمل کیا کرتے تھے۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل میں سے کوئی چیز چھوڑ دوں گا تو گمراہ ہو جاؤں گا۔(بخاری)گویا صحابہ کرا م رضی اللہ عنہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کو ہی اپنی متاع حیات سمجھتے تھے ۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی زبانی کلامی محبت کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے اپنے عمل اور سچی تابعداری سے ثابت کر دیا تھا کہ جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے اس کی اتباع کی جاتی ہے۔
صحابہ کرام کی محبتیں ہمارے لئے نمونہ ہیں ۔ لیکن آج کے دور میں ہماری محبتیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیسی ہیں ؟ گانے بجانے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے دم بھرے جا رہے ہیں ۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں جس شخص کو جس سے محبت ہوتی ہے اس کا اٹھنا بیٹھنا اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی چال ڈھال، رنگ ڈھنگ اس کا لباس اس کی ہر چیز ویسی ہی ہو جاتی ہے اور قوم جس قوم سے محبت کرتی ہے سات سمندر پار اس قوم جیسا لباس پہنتی ہے۔ مثلاً جیسے ہم انگریزوں سے محبت کرتے ہے۔ ان کی زبان سے ان کے لباس سے، ان کے اٹھنے بیٹھنے کے اسٹائل سے محبت کرتے ہیں ان کے ہر طریقے پر جانیں وارتے ہیں ، وہاں سے آئی ہوئی چیزوں کو ہم سینوں سے لگاتے ہیں ۔ کیوں ؟ کیوں کہ اسے محبت کہتے ہیں !ہم اپنی شادی بیاہ کی رسموں کو دیکھ لیں ۔ اپنے مرنے جینے کی رسموں سے لیکر کھانا پینا ، اٹھنا بیٹھنا ، چال ڈھال یہ سب کچھ ہندوانہ کلچر کی نمائندگی ہے اور ہم تمام اس میں ملوث ہیں ۔ لہٰذا اﷲ نے ایک بڑا امتحان رکھ دیا ہے کہ اگر تمہیں مجھ سے محبت کا دعویٰ ہے تو جاؤ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو دیکھو ان کی تعلیمات پر غور کرو اور ان پر عمل کرو۔اب سوچنے کی بات ہے کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے ایک عورت اپنا کیا کردار ادا کرسکتی ہے ۔ اور یہ ذمہ داری بطریق احسن انجام کیسے دے سکتی ہے۔ جبکہ اگر اس کا دائرہ کار صرف گھر کی چار دیواری ہو اور کہیں اس کی اولاد اس کے پاؤں کی زنجیر بنتی ہو اور شوہر کی اطاعت بھی ضروری ہے:لیکن ابھی عورت کے لیے ایک وسیع میدان موجود ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اپنی اولاد کی بہترین پرورش کرے انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور سنت سے روشناس کروائے ۔ بچوں کو کہانیاں سننے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں سچی کہانیاں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے واقعات سنائیں تو ہم دیکھیں گے کہ خود بخود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان کے دل میں پیدا ہو گی۔جب ایک بچہ بولنا سیکھتا ہے بات کو سمجھنا سیکھتا ہے تو اسے چھوٹی چھوٹی باتیں سکھانا شروع کر دیں بھلا کیوں نہیں ہو گا کہ جب وہ سمجھ کی عمر کو پہنچے تو اس کا دماغ درست سوچ اور درست راستے پر لگ چکا ہو۔اور پھر کیا بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں میں سے ہمیں پھر سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسا عظیم حکمران عطا فرمائے جو اسلام کو پوری دنیا میں زندہ کرے اور اسلام کا پرچم پوری دنیا میں لہرائے۔ آمین ۔ اور پھر کیا بعید ہےکہ اللہ تعالٰی انہیں میں سےہمیں پھر سےسیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسا سیاسی بصیرت رکھنے والا لیڈر عطا کردے جو ہماری سیاسی تربیت کرے قرآن وحدیث کے مطابق مگر شاید ہماری مائیں ہی مجرم ہیں جو اپنی اولاد کے ذہن کی صحیح پرورش ہی نہیں کر پاتیں اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں تاجروں اور غیور امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت وکردار پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ہر پلیٹ فارم پر ناموس سالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کٹ مرنے تن من دھن قربان کرنے کا عزم رکھیں اورموجودہ حالات میں کافروں اور ختم نبوت کے انکاریوں اور فرانس کے صدر کا ہر پلیٹ فارم تعاقب کریں اور انکی تمام مصنوعات کا ڈٹ کر بائیکاٹ کریں ۔اور دنیا کے کے کافر گستاخ ایک بات یاد رکھیں ہم اپنے نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کسی صورت قبول نہیں کریں گے ہم اپنی جان و مال کا نظرانہ پیش کر کے سرکار دوعالم ﷺ کی عزت کی حفاظت کریں گے۔ فرانسیسی صدر میکرون مسلمانوں کے دل مجروح کر کے سکون کی زندگی نہیں گزار سکے گا ۔ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن حضورﷺ کی ناموس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ قرآن مجید کا فیصلہ کوئی نہیں بدل سکتا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضور ﷺ کا ذکر بلند کردیا ہے اور آنے والی ہر گھڑی افضل اور اعلیٰ ہے جب تک گستاخ رسول ﷺ کا سر قلم نہیں کیا جاتا تب تک مسلمان فرانسیسی مصنوعات کا بائیکات کریں گےاور حکومت پاکستان غیرت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے فرانس سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر کے ان کے سفیر کو ملک بدر کرے اور اپنے نمائندے کو فرانس جیسی غلیظ جگہ سے واپس بلا کر سچے مسلم حکمران ہونے کا ثبوت دے۔

LEAVE A RESPONSE

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

×