GW TV

Gujranwala Based News

پنجاب سیاست

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخاب کا شیڈول جاری

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخاب کا شیڈول جاری

الیکشن کمشین نے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول سپریم کورٹ میں جمع کرادیا۔ سندھ اور بلوچستان میں بلدیاتی انتخاب کا فیصلہ 11 فروری کو ہوگا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ملک میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس پر سماعت کی۔الیکشن کمیشن کی جانب سے 4 فروری بروز جمعرات بلدیاتی انتخابات سے متعلق شیڈول عدالت عظمیٰ میں جمع کرایا گیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 20 جولائی کو کرائے گا، جب کہ خیبر پختونخوا میں 8 اپریل کو پولنگ ہوگی۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات 8 اپریل کو ہونگے، جب کہ سندھ اور بلوچستان میں بلدیاتی الیکشن کا فیصلہ 11 فروری کو ہوگا۔اس موقع پر وکیل رائے احمد نواز کھرل نے کہا کہ گلگت بلتستان کے 2 ملین سے زائد افراد کو بھی بلدیاتی انتخابات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو 12 سال سے اختیارات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ بھی مقدمہ میں فریق بننا چاہتے ہیں۔ جس پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ اگر اپ درخواست دینا چاہتے ہیں تو دیں۔ اگرچہ وفاقی حکومت بلدیاتی انتخابات کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈال رہی ہے پھر بھی اٹارنی جنرل سے کچھ باتیں پوچھنا چاہتے ہیں۔

بلدیاتی انتخابات کے حوالے جوابات میں مختلف صوبوں نے مختلف وجوہات بتائی ہیں، حد بندیوں، مردم شماری ، کرونا اور عدالتی احکامات کا کہا گیا ہے، پنجاب نے مقامی حکومت کے خاتمے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمہ کا حوالہ دیا ہے، عدالت جاننا چاہتی ہے کہ ان وجوہات کی قانونی حیثیت کیا ہے۔جسٹس مقبول باقر کا کہنا تھا کہ کراچی میں مردم شماری میں تعداد کم ظاہر کرنے کا ایشو بھی بہت اہم ہے، جس پر جسٹس قاضی نے کہا کہ عدالت جاننا چاہتی ہے کہ ان وجوہات کی قانونی حیثیت کیا ہے؟۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مردم شماری 2017 میں ہوئی لیکن ابھی تک حتمی نوٹی فیکشن جاری نہ ہوسکا، مردم شماری پر سندھ اور دیگر کے اعتراضات ہیں، جن پر وفاقی حکومت نے کمیٹی بنادی ہے،سندھ میں 5 فیصد بلاکس پر دوبارہ مردم شماری کرائی جائے گی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا سندھ کا اعتراض آبادی کم ہونے کا تھا،2017 سے 2021 تک مردم شماری پر فیصلہ نہ ہوسکا، کیا پاکستان کو اس طرح سے چلایا جارہا ہے، یہ تو روزانہ کے معاملات ہیں، کیا وزیراعظم نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی ادارے تحلیل کرکے جمہوریت کا قتل کردیا، بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضا ہیں، بلدیاتی انتخابات کی بات ہو تو صوبے اپنے مسائل گنوانا شروع کردیتے ہیں، کیا ملک میں پہلی مرتبہ انتخابات ہو رہے ہیں جو اتنے مسائل بتا رہے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی ادارے کیوں تحلیل کئے، کوئی وجہ تو ہوگی، اداروں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے، کیا پنجاب حکومت نے لوکل گورنمنٹ ختم کرکے بیک ڈور مارشل لا لگایا، مارشل لاء کے دور میں تو ایسا ہوتا تھا لیکن جمہوریت میں ایسا کبھی نہیں سنا، کیا پنجاب لوکل گورنمنٹ ختم کرنے کا موڈ بن گیا تھا؟ عدالت کے ساتھ گیم مت کھیلیں، الیکشن کمیشن نے تو پنجاب میں بلدیاتی حکومت کو ختم کرنا غیر قانونی قرار دیا، ایڈووکیٹ جنرل آفس بتائے کیا پنجاب میں بلدیاتی حکومت ختم کرنا قانون کے مطابق ہے۔ عدالتی سوالات پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مسکراتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اس سوال کا جواب دینا ممکن نہیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ ڈیفنس میں رہنے والوں کے ایشو نہیں، کچی آبادی والوں کے ایشوز ہوتے ہیں۔ ہم نے خود کو نہ سدھارا تو وقت نکل جائے گا۔

لوگ بد دعائیں دے رہے ہیں۔ کیا پنجاب کا حال مشرقی پاکستان والا کرنا ہے۔ پنجاب کے عوام کو حقوق سے محروم کر دیا۔ الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے اخراجات سے ڈراتا ہے۔ الیکشن کمیشن کہتا ہے الیکشن پر 18 ارب خرچہ آئے گا۔ یہ تو 36 اراکان اسمبلی کو دیئے جانے والے ترقیاتی فنڈز کے برابر ہے۔ یہ عوام کا پیسہ ہے۔ مردم شماری کا ایشو ہے تو دوبارہ کروالیں۔ جس پر جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ نئی مردم شماری پر فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل میں ہوگا۔اس پر جسٹس قاضی فائز نے اٹارنی جنرل خالد محمود سے سوال کیا کہ کیا پاکستان میں میڈیا آزاد ہے؟۔ اٹارنی جنرل صاحب ہاں یا ناں میں جواب دیں۔ خالد محمود نے جواباً کہا کہ ہاں یا ناں کے علاوہ کوئی آپشن دیں۔ جسٹس قاضی نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کمرہ عدالت میں موجود میڈیا والوں سے ریفرنڈم کرتے ہیں۔ میڈیا والے ہاتھ کھڑا کریں کہ کیا میڈیا آزاد ہے۔ جس کے بعد کسی میڈیا والے نے میڈیا آزاد ہونے پر ہاتھ کھڑا نہ کیا۔جسٹس قاضی نے ریمارکس دیئے کہ میڈیا پر پابندی لگانے والے مجرم ہیں ان کو جیل میں ہونا چاہیے۔ ہمارا آئین میڈیا کی آزادی کا ضامن ہے۔ میڈیا کو کنٹرول کر کے اپنی تعریف سن کر خوش ہو رہے ہیں۔

ایسے لوگوں کو ماہر نفسیات کے پاس جانا چاہیے۔ کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔

LEAVE A RESPONSE

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

×