GW TV

Gujranwala Based News

نوشہرہ ورکاں

نوشہرہ ورکاں! غضب کی کرپشن کی عجب کہانی

نوشہرہ ورکاں! غضب کی کرپشن کی عجب کہانی، ہیلتھ کونسل کے فنڈز میں نو لاکھ کے گھپلا کی مدعی کے بغیر بند کمرے میں سرکاری مداح سراؤں کی موجودگی میں غلط موقعہ دیکھا کر ہم رینک انکوائری افسر کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بری ہونے کی کوشش تفصیلات کے مطابق تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں چند ماہ قبل اسسٹنٹ کمشنر حیدر خان نے بحثیت چیئرمین ہیلتھ کونسل ہاؤس کی منظوری لئے بغیر لیبر روم میں چند لائٹس اور رنگ و روغن کروا کر ہیلتھ کونسل کے فنڈز سے نو لاکھ روپے نکلوا لئے اور کرپشن چھپانے کے لئے ہیلتھ کونسل کا ریکارڈ کئی ماہ تک دبائے رکھا میڈیا کی نشاندہی ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے انکوائری کا حکم دیا تو ڈپٹی کمشنر نے گندم کی خریداری مہم اور کرونا وباء کے پیش نظر انکوائری وقتی طور پر روک دی اور اب اسسٹنٹ کمشنر صدر ساریہ حیدر کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گزشتہ روز تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں دوران انکوائری چیئرمین ہیلتھ کونسل اسسٹنٹ کمشنر حیدر خان اور جنرل سیکرٹری ہیلتھ کونسل میڈیکل سیریٹنڈنٹ ڈاکٹر عرفان ریاض نے اپنی تعریفوں کے پل باندھنے کے لئے چار سرکاری ٹیچرز سمیت اپنے حمائتی افراد کو اکٹھا کر رکھا تھا جنہوں نے انکوائری افسر کے سامنے ان کے انتہائی فرض شناسی اور بہترین کام کرنے کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے انکوائری افسر ساریہ حیدر کو لیبر روم کے ساتھ ساتھ ایم ایس روم ایمرجنسی روم سمیت پانچ مختلف کمروں کا وزٹ کروا دیا اور دو سال قبل ہونے والے کام کو اپنے کھاتے میں ڈال کر مذکورہ نو لاکھ روپے میں زیادہ کام کروانے پر خوب داد حاصل کی یوں انکوائری افسر ساریہ حیدر کی آنکھوں میں دُھول جهونک کر اپنے آپ کو کلئیر کروانے میں کامیاب ہو گئے عوامی حلقے کرپٹ افسران کی کمال ہوشیاری پر ششدر رہ گئے عوامی حلقوں نے حکام بالا سے کسی دیانتدار اعلیٰ افسر سے میڈیا کی موجودگی میں شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے

LEAVE A RESPONSE

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

×