GW TV

Gujranwala Based News

بلاگ مذہب

فضائلِ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اور پیغام پاکستان ۔ پڑھیے حافظ عبدالرحمٰن کی تحریر

دین اور دنیا (تحریر) حافظ عبدالرحمٰن

قرآنِ کریم میں ہے "وسيجنبها التقى الذى يؤتى ماله يتزكى” (اور بچایا جائے گا دوزخ کی آگ سے وہ بڑا متقی جو اپنا مال خرچ کرتا ہے تاکہ پاکیزگی حاصل کرے) مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنا مال راہِ خدا میں صَرف کیا اور پے در پے سات غلاموں کو جو مسلمان ہوجانے کے سبب سے ستائے جاتے تھے خرید کر آزاد کردیاـ اللہ تعالی نے اس آیت میں سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو "اتقی” یعنی بڑا متقی فرمایا ہےـ حدیثِ نبویﷺ ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ "میری اُمت میں سب سے زیادہ میری اُمت پر مہربان ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں” ـ(ترمذی) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ” تم غار میرے ساتھ رہے اور حوضِ کوثر پر بھی میرے ساتھ رہو گے”(ترمذی) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا
"ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جنت کے بڑی عمر والوں کے سردار ہیں سوائے انبیاء ومرسلین علیھم السلام”(ترمذی) امُ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ "جس جماعت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہوں اس کے لیے زیبا نہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سواکوئی دوسرا اس کی امامت کرےـ(ترمذی)خصوصیاتِ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ:ویسے تو آپ رضی اللہ عنہ بے شمار خصوصیات کے حامل تھے لیکن یہاں چند ایک ذکر کی جاتی ہیںتمام صحابہ کرام میں سے صرف سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ہی ہیں جن کی چار پشتیں صحابی ہیں: والدین بھی بیٹے اور پوتے بھی، ابو عتیق محمد بن عبدالرحمن بن ابی ابکرالصدیق بن ابی قحافہ رضی اللہ عنھم ـعتیق” (آگ سے آزاد شدہ) کا لقب خصوصی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو ہی حاصل ہے حدیث میں ہے نبی کریم نے فرمایا کہ ” جس شخص کو پسند ہے کہ آگ سے آزادہ شدہ انسان کو دیکھے تو وہ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف نظر کرے” قیام غارِ ثور کا شرفِ معیت اور حاضری سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو ہی حاصل ہوئی ہے جس کا ذکر قرآنِ کریم نے "ثانى اثنين اذهما فى الغار” میں فرمایا ہےـسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان:حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا امام مقرر ہونا بحکم رسول اللہﷺ تھا اس خطبہ کے (جس میں لطیف وباریک اشارات آنحضرت کے وصال مبارک کی طرف تھے) بعد جناب رسول اللہﷺ جلد ہی بیمار ہوئے اور مرض دن بدن بڑھتا ہی گیا حتی کہ آنحضرتﷺ آخری ایام میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے مسجد میں تشریف نہیں لے جاسکتے تھے تو نماز کی امامت کے لئے آنحضورﷺ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین میں سے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔ جب بلال رضی اللہ عنہ نے آکر نماز کی اطلاع کی تو نبی کریمﷺ نے فرمایا "مروا ابا بكر فليصل بالناس” یعنی ابوبکر کو کہا جائے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیںحضورﷺ کی زندگی مبارک میں دورانِ مرضُ الوفات حضورﷺ کے فرمان کے مطابق سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ نے تقریبا سترہ نمازوں میں تمام مسلمانوں کی امامت فرمائی۔ یہ امامت صغری فضیلت صدیق کا زبردست نشان ہے جس نے امامت کبری (خلافت) کا راستہ صاف کر دیا۔رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سقیفہ بن ساعدہ میں انصار کا مجمع ہوا تاکہ کسی خلیفہ کا تقرر کریں وہ چاہتے تھے کہ ایک خلیفہ انصار میں سے ہوں اور ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہوں مگر دو خلیفہ کا تقرر کرنا جس قدر باعث افتراق ہوتا ظاہر ہے لہذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیعت کے معاملہ میں سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بیعتِ خلافت قبول کرنے پر آمادہ کرنا چاہا تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے جواب فرمایا کہ کیا تم میرے ساتھ بیعت کرنا چاہتے ہو حالانکہ تم میں "الصدیق” اور "ثانی اثنین” موجود ہیں؟اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیعت کرنے کے موقع پر ایک کلام کیا تھا اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صفات شمار کرتے ہوئے فرمایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کری کے صاحب اور ہم نشین ہیں اور ثانی اثنین ہیں اور تم مسلمانوں کے معاملات کے متعلق سب سے اولی ہیں اٹھو اور ان کے ساتھ بیعت کرو۔
خود حضورﷺ کے بہت سارے ارشادات سے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اشارات ملتے ہیں جیسا کہ.ایک مرتبہ کسی بدری صحابی کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے آگے چلتے ہوئے دیکھا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "اتمشى بين يدى من هو خير منك” تم اس کے آگے چل رہے ہو جو تم سے بہتر ہےـ (استیعاب) 9 ہجری میں رسول اللہﷺ کا سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو حج کا امیر بنانا۔ آخری غزوہ تبوک میں حضورﷺ کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لشکر کا جائزہ لینے اور لشکر کی امامت کرنے کا کہنا۔ اسی طرح احادیث میں مذکور ہے کہ ایک عورت حضورﷺ کے زمانہ میں آپ کے ہاں حاضرِ خدمت ہوئی، کوئی چیز طلب کرنا چاہتی تھی آپﷺ نے فرمایا کہ "پھر کسی وقت آنا” تو عورت کہنے لگی یا حضرت! اگر میں حاضر ہوں اور آپ موجود نہ ہوں تو؟؟ (اس کا اشارہ آنحضورﷺ کے وصال مبارک کی طرف تھا) آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ "اگر تو آئے اور مجھ کو نہ پائے تو ابوبکر کے پاس جانا” میرے بعد وہ خلیفہ ہیں۔آنحضورﷺ نے اپنی وفات سے صرف پانچ روز پہلے آخری خطبہ ارشاد فرمایا اس میں حضرت ابوبکر صدیق کی فضیلت اور شرافت صحابہ کرام کے سامنے بیان فرمائی ” ان امن الناس على فى صحبه حصاله ابوبکر” یعنی تمام لوگوں میں سے مجھ پر ابوبکر نے بہت احسان کیا ہے تمام عمر میری صحبت وسنگت میں گزاری ہے اور اپنا سارا مال اس نے میرے لئے قربان کر ڈالا ہے پھر فرمایا کہ مسجد نبوی میں اندر آنے کے لئے جو جو دریچے تم لوگوں نے رکھے ہوئے ہیں وہ سب کے سب بند کر دیئے جائیں مگر صرف ابوبکرصدیق کا دریچہ جو مسجد کی جانب ہے وہ کھلا رہے۔اس آخری خطبہ میں خلافتِ صدیق کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو نماز پڑھانے کے لیے اس دروازہ سے مسجد نبوی میں تشریف لایا کریں گے۔
یہاں علامہ ابن کثیر صاحب البدایہ نے ایک باریک بات ذکر کی ہے وہ یہ کہ حضورﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ایک مکتوب تحریر فرمانے کا ارادہ ظاہر فرمایا لیکن اس کو کسی مصلحت کی وجہ سے ملتوی فرما دیا اور مذکورہ الفاظ فرما دینے کے بعد یہ آخری خطبہ یوم الخمیس کو ارشاد فرمایا جس میں فضیلتِ صدیقی کا نہایت واضح بیان ہے۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ آنحضورﷺ ایک مکتوب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حق میں تحریر فرمانا چاہتے تھے اس کے قائم مقام یہی خطبہ ارشاد فرمایا۔خلافت صدیقی کے بابرکت کارنامے:اگرچہ آپ رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت بہت مختصر تھا اور ایسے نازک وقت میں آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تھے کہ کوئی فرشتہ بھی اگر ہوتا تو کچھ نہ کر سکتا تھا مگر پھر بھی آپ رضی اللہ انہوں نے جو کام کیے امن و اطمینان کے زمانہ میں بھی اس سے بڑھ کر نہ ہو سکتے تھے چنانچہ چند امور درج ذیل ہیں۔
سب سے پہلا اور اہم کام رسول اللہﷺ کی نماز جنازہ اور تدفین کا تھا جس کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بڑی حسن و خوبی سے انجام دیا۔
صحابہ کرام پر اس وقت قیامتِ کبری یعنی رسول اللہﷺ کی وفات کا جو اثر تھا اس نے ان کے حواس کو مختل کر دیا تھا۔ کوئی آپﷺ کی وفات کا منکر تھا کسی کے منہ پر مہر خاموشی لگ گئی تھی کوئی بیتاب تھا جیسا کہ روایات میں مذکور ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے یہ کیا کہ حجرہ مقدسہ میں تشریف لے گئے اور آنحضرتﷺ کے رخِ انور سے چادر ہٹا کر جبیں مبارک کو بوسہ دیا اور سوز جگر کے کلمات زبان مبارک سے جاری کیے۔وانبیاه واخلیلاہ واصفیاہ” (اے میرے نبی، اے میرے دلی دوست، اے میرے برگزیدہ رفیق) بس یہ کہہ کر باہر تشریف لے آئے اور ایک زبردست خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کیلئے آبِ حیات تھاـ اس خطبہ نے سب کو باہوش کردیا گویا سوتے سے جگا دیاـ رسول اللہﷺ کا جو برتاؤ جس کے ساتھ تھا اس کو بڑے اہتمام سے قائم رکھا چنانچہ رسول اللہﷺ حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس کبھی کبھی تشریف لے جاتے تھے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے بھی یہی دستور رکھاـ
قتالِ مرتدین اور جیشِ اُسامہ:
رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر سن کر عرب کے بعض قبائل مرتد ہوگئے اور طرح طرح کی بغاوتیں رونما ہوئیں بعض مدعیانِ نبوت اٹھ کھڑے ہوئے جن میں ایک مسیلمہ کذاب بھی جس نے رسول اللہﷺ کے اخیر وقت میں سر اٹھایا تھا اور خط بھی بھیجا تھا اور ان ہی مدعیانِ نبوت میں اسود عنسی بھی تھا اور سجاح نامی ایک عورت بھی تھی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ان سب مرتدوں کو اور نبوت کے جھوٹے مدعیوں کے قتال کے لیے حکمِ قطعی نافذ کردیاـادھر ایک بات یہ بھی در پیش تھی کہ رسول اللہﷺ اپنی آخری وصیت میں حکم دے گئے تھے کہ اُسامہ کا لشکر ملکِ شام کی طرف روانہ کردیا جائے سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ نے اس لشکر کی روانگی کا دے دیا مگر تمام صحابہ کرام اس معاملہ میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ ایسے آشوب وقت میں جبکہ اندرونِ ملک میں متعدد قبائل سے بغاوت کے شعلے بلند ہورہے ہیں حظ لڑائی میں پیش قدمی کرنا بالفعل مناسب نہیں لیکن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری اونٹنی لاؤ میں خود قتالِ مرتدین کے لیے جاتا ہوں یہ کہنا تھا کہ تمام صحابہ کرام امیر کی اطاعت میں اٹھ کھڑے ہوئے چنانچہ قتالِ مرتدین کیلئے بھی فوجیں روانہ ہو گئیں ـ
کچھ ہی دنوں میں ہر طرف سے فتح وکامیابی کی خبریں آنے لگیں اور اسلام میں جو ایک مہلک وبا پھیلنے کو تھی یک دم فنا ہوگئی ایک سال کے اندر ہی مدعیانِ نبوت بھی راہی جہنم کردئیے گئے مرتدین کا بھی قلع قمع ہوگیا حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ کا لشکر بھی دشمن کی بڑی بہادر فوجوں کو تہ وبالا کرکے بڑی کامیابی کے ساتھ واپس آگیا یہ وہی معرکہ تھا جس کی پشین گوئی آیت قتالِ مرتدین میں سات آسمانوں کے اوپر سے اُتری تھی ـ
صدیقی معیشت آخری ایام میں:
آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ دیکھو ایک دودھ دینے والی اونٹنی، ایک برتن، ایک چادر اور ایک لونڈی جو بیت المال سے مجھے دی گئی تھی اس کو بیت المال میں واپس کردینا چنانچہ سیدۂ کائنات حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ تمام چیزیں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں تق انہوں نے کہا کہ اے ابوبکر اللہ کی رحمت آپ پر ہو آپ نے اپنے جانشین کیلئے مشکل نمونہ چھوڑا ہےـ
جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وفات کے قریب پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ پر بیت المال کی طرف سے جو خراج ہوا تھا تقریبا چھ ہزار کے قریب پہنچ تھا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اچھا اس خراج کو پورا کرنے کے لیے میرا فُلاں باغ فروخت کرکے بیت المال کی رقم ادا کردی جائے مگر بعد از وفات حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب میں والی ہوں لہذا میں تم کو یہ رقم واپس کرتا ہوں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے وارثوں سے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے یہ خرچا واپس نہ لیا ورنہ حسبِ ہدایت ادا کرنا چاہتے تھےـ
اپنے کفن کے لیے وصیت فرمائی کہ یہی لباس جو میں پہنے ہوں میرا کفن ہوگا ایک جگہ اس میں زعفران کا رنگ ہے اس کو دھو ڈالناـ آپ رضی اللہ عنہ دنیا سے بالکل پاک دامن گئےـ آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت دو برس تین ماہ نو دن رہی جمادی الثانی تیرہ ہجری کو آپ کی وفات ہوئی اور حضورﷺ کے جوارِ رحمت روضہ مقدسہ میں دفن ہوئےـحضور نبی کریمﷺ کی آخری آرام گاہ (قبر شریف) کے بالکل متصل آرام تا قیامت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو ہی حاصل ہے مختصر یہ کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا جتنا قرب حضورﷺ کے ساتھ اس عالمِ دنیا میں تھا اتنا ہی عالمِ برزخ میں ہے، اتنا ہی قیامت میں ہوگا اور اتنا ہی جنت میں بھی ہوگاـدوسری طرف تمام مکاتب فکر کے اکابرین اور جید علماء اکرام نے اس بات پر(پیغام پاکستان کی گیارہویں شک)جس پر تحریر کیا ہے کہ [کوئی شخص خاتم النبین ﷺ جملہ انبیاء اکرام علیہ السلام امہات المﷺمنین ،اہل بیت اطہار،خلفاء راشدین ،اور صھابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین علیہ السلام کی توہین نہیں کرے گا،کوئی فرد یاں گروہ قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے گا نہ ہی توہین رسالت کے کیسز نکی تفتیش یاں استغاثہ میں رکاوٹ ڈالے گا]اتفاق کرتے ھوئے پیغام پاکستان دستاویز پر اپنے دستخط کیے جو کہ بہت ہی خوش آئند بات ہے تمام مسالک کے علماء اکرام کا ایک پلیٹ فارم پہ ہونا اور پھر بھی مقدس شخصیات(سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،امیر معاویہ بن ابی نسفیان رضی اللہ عنہم و دیگر مقدس شخصیات) کی اس ملک میں توہین ہونا قابل مذمت بات ہے جو کہ مسلمانوں کے لئے ایک اذیت ناک بات ہے ،پیغام پاکستےان کی دستاویز پر جن علماء اکرام نے دستکط کیے ہیں انہیں چاہیے کہ ملکر ایسے عناصر کو قرار واقعی سزا دلوائیں تانکہ ملک پاکستان سے فرقہ واریت کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جاسکے۔

LEAVE A RESPONSE

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

×